Wapsi… by Usha Priyamvada.

واپسی  
افسانہ نگار: اُوشا پری یمودا
ترجمہ: علمانہ فصیح

گجادھر بابو نے کمرے میں سامان پر ایک نظر دوڑائی ۔ دو باکس ،ڈولچی، بالٹی۔
یہ ڈبّہ کیسا ہے، گنیشی؟” انہوں نے پوچھا۔”

گنیشی بستر باندھتا ہوا ، کچھ گرَو (غرور )، کچھ دکھ ، کچھ لجّا سے بولا، ’’گھروالی نے ساتھ میں کچھ بیسن کے لڈو رکھ دیئے ہیں۔کہا ، بابوجی کو پسند تھے . اب کہاں ہم غریب لوگ آپ “کی کچھ خاطر کر پائیں گے۔

گجادھر بابو نے ایک وشاد کا انبھو (محسوس ) کیا جیسے ایک پریچٹ (جانی پہچانی)، سنیح (پیار)، اڈرمیی (با عزت )، سہج سنسار سے انکا ناتا ٹوٹ رہا تھا۔
’’کبھی کبھی ہم لوگوں کی بھی خبر لیتے رہے گا ۔‘‘ گنیشی بستر رسی سے باندھتے ہوے بولا۔
’’کبھی کچھ ضرورت ہو تو لکھنا، گنیشی ۔ اس اگہن ( ہندومت کیلنڈر کاایک مہینہ ) تک بٹیا کی شادی کر دو ۔‘‘

گنیشی نے انگوچھے کے چھور ( کونے) سے آنکھیں پونچھی، ’’اب آپ لوگ سہارا نہ دینگے تو کون دیگا۔آپ یہاں رہتے تو شادی میں حوصلہ رہتا۔‘‘

گجادھر بابو چلنے کو تیار بیٹھے تھے۔ ریلوے کواٹر کا وہ کمرا جس میں انہوں نے کتنے ورش (سال) بتائے تھے، انکا سامان ہٹ جانے سے کروپ (بعد شکل) اور ناگن (ننگا) لگ رہا تھا۔ آنگن میں رُوپے (بوئے) پودے بھی جان پہچان کے لوگ لے گئے تھے اور جگہ جگہ مٹی بکھری ہی تھی۔ پر پتنی، بال بچوں کے ساتھ رہنے کی کلپنا ( تصوّر) میں یہ بچوہ (بچھڑنا) ایک دربل (کمزور) لہر کی طرح اٹھ کر ولین (ختم) ہو گیا۔

گجادھر بابو خوش تھے ، پینتیس سال کی نوکری کے بعد وہ ریٹائرڈ ہو کر جا رہے تھے۔ ان ورشوں میں ادھکنش ( زیادہ تر) سمے (وقت) انہوں نے اکیلے رہ کر کاٹا تھا۔ ان اکیلے کشموں (لمحوں) میں انہوں نے اسی سمے کی کلپنا (تصوّر) کی تھی، جب وہ اپنے پریوار کے ساتھ رہ سکیں گے۔

اسی آشا کے سہارے وہ اپنے ابھاؤ (جذبات) کا بوجھ ڈھو رہے تھے۔ سنسار کی درشتی (نظر) سے انکا جیون (زندگی) سفل کہا جا سکتا تھا۔
انہوں نے شہر میں ایک مکان بنوا لیا تھا، بڑے لڑکے امر اور لڑکی کانتی کی شادیاں کر دی

تھیں ، دو بچے اونچی ککشاؤں (کلاسوں) میں پڑھ رہے تھے. گجادھر بابو نوکری کے کارن ( وجہ سے) چھوٹے سٹیشنوں پر رہے ، اور انکے بچے اور انکی پتنی شہر میں، جس سے پڑھائی میں بادھا (خَلَل) نہ ہو. گجادھر بابو سوبھاؤ ( مزاج) کے بہت سنیہی (محبّت والے) انسان تھے اور سنیح کی اکانکشی (پر امید) بھی۔ جب پریوار کا ساتھ تھا، تو ڈیوٹی سے گھر لوٹ کر بچوں سے ہنستے بولتے اور پتنی سے منوونود (خوش گپی) کرتے۔ ان سب کے چلے جانے سے انکے جیون میں گھن (گہرا) سُونا پن بھر اٹھا۔ خالی کشنوں ( لمحوں) میں ان سے گھر میں ٹکا نہ جاتا۔کوی (شاعر) پرکرتی (طبیعت) کے نہ ہونے پر بھی انہیں پتنی کی سنیح پورن (پیار بھری) باتیں یاد آتیں رہتیں۔ دوپہر میں گرمی ہونے پر بھی ، دو بجے تک آگ جلائے رہتی اور انکے سٹیشن سے واپس آنے پر گرم گرم روٹیاں سیکتی، انکے کھا چکنے اور منع کرنے پر بھی تھوڑا سا اور تھالی میں پروس ( ڈال) دیتی اور بڑے پیار سے اگرح ( التجا) کرتی۔ جب وہ تھکے ہارے باہر سے آتے ، تو انکی آہٹ پر وہ رسوئی کے دوار ( دروازے) پر نکل آتی ، اور انکی سلج (شرم سے بھری ہی) آنکھیں مسکرا اٹھتیں۔ گجادھر بابو کو تب ہر چھوٹی بات بھی یاد آتی اور اداس ہو اٹھتے ۔۔۔.. اب کتنے ورشوں بعد وہ اوسر (موقع) آیا تھا جب وہ پھر سے اسی سنیح اور آدر ( عزت) کے مدھیہ (بیچ) جا رہے تھے۔

ٹوپی اتار کر گجادھر بابو نے چارپائی پر رکھ دی، جوتے کھول کر نیچے کھسکا دے ، اندر سے رہ رہ کر قہقہوں کی آواز آ رہی تھی ، اتوار کا دن تھا اور انکے سب بچے اکٹھے ہوکر ناشتہ کر رہے تھے۔ گجادھر بابو کے سوکھے ہونٹوں پر ایک مسکان آ گئی۔ اسی طرح مسکراتے ہوئے ، وہ بنا کھانسے ہوئے اندر چلے گئے۔ انہوں نے دیکھا کی نریندر کمر پر ہاتھ رکھے شاید رات کی فلم میں دیکھے گئے کسی نریتیہ ( ناچ) کی نقل کر رہا تھا، اور بسنتی ہنس ہنس کر دہری ہو رہی تھی۔ امر کی بہو کو اپنے تن بدن، آنچل یا گھونگھٹ کا کوئی ہوش نہ تھا اور وہ انمکت (بے فکر) روپ سے ہنس رہی تھی۔ گجادھر بابو کو دیکھتے ہی نریندر دھپ سے بیٹھ گیا اور چائے کا پیالہ اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔ بہو کو ہوش آیا اور اس نے جھٹ سے ماتھا ڈھنک لیا، کیول ( صرف) ایک بسنتی کا شریر (جسم) رہ رہ کر ہنسی دبانے کا پریتھن (کوشش) میں ہلتا رہا۔

گجادھر بابو نے مسکراتے ہوئے ان کی اَور دیکھا. پھر کہا، ’’ کیوں نریندر، کیا نقل ہو رہی تھی؟‘‘

’’کچھ نہیں بابوجی۔‘‘ نریندر نے سٹپٹا کر کہا۔ گجادھر بابو نے چاہا تھا کے وہ بھی اس منوونود (خوش گپپی) میں بھاگ (حصّہ) لیتے، پر انکے آتے ہی سب کنٹھٹ( جیسے گانٹھ لگ گی) چپ ہو گئے، اس سے انکے من میں تھوڑی سی کھنتا (جھنجلاہٹ) اپج (پیدا) آئی۔
بیٹھتے ہوے بولے، ’’بسنتی، چائے مجھے بھی دینا۔ تمہاری امّاں کی پوجا ابھی چل رہی ہے کیا؟‘‘

بسنتی نے ماں کی کوٹھری کی اَور دیکھا ،’’ ابھی آتی ہوگی‘‘، اور پیالے میں انکے لئے چائے چھاننے لگی۔ بہو چپ چاپ پہلے ہی چلی گئی تھی، اب نریندر بھی چائے کے آخری گھونٹ پی کر اٹھ کھڑا ہوا۔ کیول ( صرف) بسنتی ، پِتّا (ابّا) کے لحاظ میں ، چَوکے میں بیٹھی ماں کی راہ دیکھنے لگے۔ گجادھر بابو نے ایک گھونٹ چائے پی، پھر کہا،’’بیٹی، چائے تو پھیکی ہے۔‘‘

’’لایئے، چینی اور ڈال دوں۔‘‘ بسنتی بولی۔
’’رہنے دو، تمہاری ماں جب آئے گی، تبھی پی لونگا۔‘‘
تھوڑی دیر میں انکی پتنی ہاتھ میں اردھے (پوجا) کا لوٹا لئے نکلی اور کچھ کہتے ہوے تُلسی میں ڈال دیا۔ پتنی نے آکر گجادھر بابو کو دیکھا اور کہا ، ’’ارے آپ اکیلے بیٹھے ہیں، یہ سب کہاں گئے؟‘‘
گجادھر بابو کے من میں پھانس سی کسک اٹھی، ’’ اپنے اپنے کام میں لگ گئے ہیں، آخر بچے ہی ہیں۔‘‘

پتنی آکر چَوکے میں بیٹھ گئی۔ انہوں نے ناک بھووں چڑھا کر چاروں اَور (طرف) دیکھا. پھر کہا، ’’سارے جُھوٹے برتن پڑے ہیں، ادھر غیر میں دھرم کرم کچھ نہیں۔ پوجا کر کے سیدھے چوکے میں گھسو۔‘‘ پھر انہوں نے نوکر کو پکارا، جب اُتر (جواب) نہ ملا تو ایک بار اور اُچ ( اونچے) سَوَر ( آواز) میں پکارا، پھر پتی کی اَور دیکھ کر بولی،’’ بہو نے بھیجا ہوگا بازار۔‘‘
اور لمبی سی سانس لے کر چپ ہو رہی۔

گجادھر بابو بیٹھ کر چائے اور ناشتے کا انتظار کرتے رہے۔ انہیں اچانک ہی گنیشی کی یاد آئی۔ روز صبح، پسنجر آنے سے پہلے یہ گرما گرم پوریاں اور جلیبیاں اور چائے لا کر رکھ دیتا تھا۔ چائے بھی کتنی بڑھیا، کانچ کے گلاس میں اوپر تک بھری لبالب ، پورے ڈھائی چمچ چینی اور گاڑھی ملائی۔

پسنجر بھلے ہی رانی پور لیٹ پہنچے، گنیشی نے چائے پہنچانے میں کبھی دیر نہیں کی۔ کیا مجال کے کبھی اس سے کچھ کہنا پر ہو۔
پتنی کا شکایت بھرا سَوَر (آواز) سن کے انکے وچاروں (خیال) میں ویگھاٹ ( چوٹ) پہنچا۔ وہ کہ رہی تھی ، ’’سارا دن اسی کھچ کھچ میں نکل جاتا ہے۔ اس گرہستی کا دھندہ پیٹتے پیٹتے عمر بیت گئی. کوئی ذرا ہاتھ نہیں بٹاتا۔‘‘

’’بہو کیا کیا کرتی ہے؟‘‘ ، گجادھر بابو نے پوچھا۔

’’پڑے رہتی ہے۔ بسنتی کو تو کہے گی کالج جانا ہوتا ہے۔‘‘

گجادھر بابو نے جوش میں آ کر بسنتی کو آواز دی. بسنتی بھابھی کے کمرے سے نکلی تو گجادھر بابو نے کہا، “بسنتی، آج سے شام کا کھانا بنانے کی ذمہ داری تم پر ہے۔ صبح کا بھوجن تمہاری بھابھی بنائے گی”

بسنتی منہ لٹکا کر بولی، “بابوجی پڑھنا بھی تو ہوتا ہے”

گجادھر بابو نے پیار سے سمجھایا ، “تم صبح پڑھ لیا کرو۔ تمہاری ماں بوڑھی ہوئی، اب وہ شکتی (طاقت) نہیں بچی ہے۔ تم ہو، تمہاری بھابھی ہے، دونوں کو ملکر کام میں ہاتھ بٹانا چاہیے۔”

گھر میں گجادھر بابو کے رہنے کے لئے کوئی ستھان نہ بچا تھا۔ جیسے کسی مہمان کے لئے استھائی (عارضی) پربندھ ( انتظام) کر دیا جاتا ہے، اسی پرکار (طرح) بیٹھک میں کرسیوں کو دیوار سے سٹاکر (چپکا کر ) بیچ میں گجادھر بابو کے لئے پتلی سی چارپائی ڈال دی گی ۔ گجادھر بابو اس کمرے میں پڑے پڑے کبھی کبھی انایاس ( اچانک) ہی، اس استھایٹھو (عارضی پن) کا انو بھو ( محسوس) کرتے۔ انھیں یاد آتی ان ریل گاڑیوں کی جو آتی اور تھوڑی دیر رک کر کسی اور لکشتے ( منزل) کی اور (طرف) چلی جاتی۔

گھر چھوٹا ہونے کے کارن( وجہ) بیٹھک میں ہی اب وہ پربندھ کیا گیا تھا اندر ایک چھوٹا کمرہ اوشے ( ضرور) تھا، پر وہ ایک اَور (طرف) اچار کے مرتبان ، دال، چاول، کے کنستر اور گھی کے دبوں سے گِھرا تھا۔ دوسری اور پرانی رزائیاں، دریاں، لپٹی اور بندھی رکھی تھیں۔ انکے پاس ایک بڑے سے ٹین کے بکس میں گھر بھر کے گرم کپڑے تھے۔ بیچ میں ایک الگنی بندھی ہی تھی ، جس پر پرایا (شاید) بسنتی کے کپڑے لاپرواہی سے پڑے رہتے تھے۔ وہ اکثر اس کمرے میں نہیں جاتے تھے۔ گھر کا دوسرا کمرہ امر اور اسکی بہو کے پاس تھا۔ تیسرا کمرہ جو سامنے کی اَور (طرف) تھا، بیٹھک تھی۔ گجادھر بابو کے آنے سے پہلے اس میں امر کے سسرال سے آنے والے بَینت کا تین کرسیوں کا سیٹ پڑا تھا۔ کرسیوں پر نیلی گددیاں اور بہو کے ہاتھوں کے کڑھے کشن تھے۔

جب بھی انکی پتنی کو کوئی لمبی شکایات کرنی ہوتی، تو اپنی چٹائی بیٹھک میں ڈال پڑ جاتی تھیں۔ وہ ایک دن چٹائی لے کر آ گئی تو گجادھر بابو نے غیر گھرگرھستھی کی باتیں چھیڑیں، وہ گھر کا رویہ دیکھ رہے تھے۔ بہت ہلکے سے انہوں نے کہا کی اب پیسا کم رہیگا، کچھ خرچہ کم کرنا چاہیے۔

“سبھی خرچے تو واجب واجب ہیں ، نہ من کا پہنا، نہ اوڑھا۔”

گجادھر بابو نے آہت (چوٹ)، وسمت (حیرت) درشتی (نظر) سے پتنی کو دیکھا۔ ان سے اپنی حیثیت چھپی نہ تھی۔ انکی پتنی تنگی کا انو بھو (محسوس) کر اسکا اُلیکھ (تفصیل) کرتیں ۔ یہ سوابھویک (قدرتی) تھا، لیکن ان میں سہانبھوتی (ہمدردی) کا ابھاؤ (کمی) گجادھر بابو کو بہت کھٹکا۔ ان سے اگر یہ بات کی جاتی کے خرچہ کم کیسے ہو، تو انہیں چنتا کم، سنتوش (اطمینان) ادھک (زیادہ) ہوتا۔ لیکن ان سے تو کیول ( صرف) شکایات کی جاتی تھی، جیسے پریوار کی سب پریشانیوں کے لئے وہ ہی ذمہ دار تھے۔

تمہیں کس بات کی کمی ہے، امر کی ماں ۔ گھر میں بہو ہے، لڑکے بچے ہیں، صرف روپے سے ہی آدمی امیر نہیں ہوتا۔ “

گجادھر بابو نے کہا، اور کہنے کے ساتھ ہی انو بھو کیا۔ یہ انکی انترک ( اندرونی) ابھیویکتی (احساس) تھی۔ایسی کہ جو انکی پتنی نہیں سمجھ سکتی۔

’’ہاں، بڑا سُکھ ہے نہ بہو سے ۔ آج بہو رسوئی کرنے گئی ہے، دیکھو کیا ہوتا ہے؟ ‘‘ کہہ کر پتنی نے آنکھیں موندیں اور سو گئی۔ گجادھر بابو بیٹھے ہوئے پتنی کو دیکھتے رہ گئے۔ کیا یہی تھی کیا انکی پتنی، جسکے ہاتھوں کے کومل (نرم) سپرش ( چھونا)، جسکی مسکن کی یاد میں انہوں نے سمپورن (پورا) جیون (زندگی) کاٹ دیا تھا؟ انہیں لگا کی وہ لاوانمیے ( نرم دل) یوتی (عورت) جیون کی راہ میں کہیں کھو گئی اور اسکی جگہ آج جو ستری (خاتون) ہے، وہ ان کے من اور پران (زندگی) کے لئے اپریچٹ (انجان) ہے۔ بھری نیند میں انکی پتنی کا شریر بہت بے ڈول اور کروپ (بدصورت) لگ رہا تھا، شریھین (لاغر) اور روکھا تھا۔ گجادھر بابو در تک نسونگ (بغیر بناوٹ کے) درشتی (نظر) سے پتنی کو دیکھتے رہے اور پھر لیٹ کر چاٹ کی اور تکنے لگے۔

اندر کچھ گرا، اور انکی پتنی ہر بڑھا کر اٹھ بیٹھی، : “لو بلی نے کچھ گرا دیا شاید.” اور کہ کر اندر بھاگی۔ تھوڑی دیر میں لوٹ کر آئی تو انکا منہ پھولا ہوا تھا. “دیکھ بہو کو ؟ چکا خلا چھوڑ آئی، بلی نے ڈال کی پتیلی گرا دی۔ سبھی کھانے کو ہیں، اب کیا سکھاؤنگی۔” وہ سانس لینے کو روکیں اور بولیں، “ایک ترکاری اور چار پراٹھے بنانے میں سارا ڈبہ گھی انڈیل کر رکھ دیا۔ ذرا سا درد نہیں ہے۔ کمانے والا ہاڑھ توڑے اور یہاں چیزیں لٹیں۔ مجھے تو معلوم تھا کہ یہ سب کام کسی کے بس کا نہیں ہے۔ “

گجادھر بابو کو لگا کی پتنی کچھ اور بولے گی تو انکے کان جھنجھنا اٹھیں گے۔ ہونٹ بھینچ، کروٹ لے کر انہوں نے پتنی کی اور پیٹھ کر لی۔

رات کا بھوجن بسنتی نے ایسا بنایا تھا کے کور (نوالہ) نگلا نہ جا سکے۔ گجادھر بابو چپ چاپ کھا کر اٹھ گئے، پر نریندر تھالی سرکا کر اٹھ کھڑا ہوا اور بولا، “میں ایسا کھانا نہیں کھا سکتا۔”

تمہیں کھانا بنانے کے لئے کس نے کہا تھا؟” نریندر چلایا۔”

“بابوجی نے۔”

“بابوجی کو بیٹھے بیٹھے یہی سوجھتا ہے۔ “

ماں نے نریندر کو منایا اور اپنے ہاتھ سے کچھ بنا کر کھلایا۔ گجادھر بابو نے بعد میں پتنی سے کہا، :اتنی بڑی لڑکی ہو گی ہے، اور کھانا بنانے کا شعور نہیں ہے؟”

“ارے آتا سب کچھ ہے، کرنا نہیں چاہتی۔ ” پتنی نے اُتر دیا۔ اگلی شام ماں کو رسوئی میں دیکھ کر بسنتی باہر آئی تو بیٹھک میں گجادھر بابو نے ٹوک دیا، “کہاں جا رہی ہو؟”

“پڑوس میں شیلا کے گھر۔”

“کوئی ضرورت نہیں ہے، اندر جا کر پڑھو۔” گجادھر بابو نے کڑھے سَوَر میں کہا۔ کچھ دیر کھڑے رہ کر، بسنتی اندر چلی گی۔ گجادھر بابو شام کو روز ٹہلنے چلے جاتے تھے، لوٹ کر ائے تو پتنی نے کہا “کیا کہہ دیا بسنتی کو؟ شام سے منہ لپیٹے پڑی ہے۔ کھانا بھی نہیں کھایا۔”

پتنی کی بات کا انہوں نے اُتر نہیں دیا۔ من میں نشچے (ارادہ) کر لیا کے بسنتی کی شادی جلدی کر دینی چاہیے۔ اس دن کے بعد سے بسنتی پِتّا سے بچی بچی رہنے لگی۔ جانا ہوتا تو پچھواڑے (پیچھے ) سے جاتی۔ گجادھر بابو نے ایک دو بار پوچھا تو اُتر ملا،” روٹھی ہی ہے۔”

“پھر انکی پتنی نے سوچنا دی کے امر الگ ہونے کی سوچ رہا ہے۔

“کیوں؟” انہوں نے چکت( حیران) ہو کر پوچھا ۔

پتنی نے صاف صاف اتر دیا، “امر اور اسکی بہو کو شکایت بہت ہے۔ انکا کہنا ہے کے بابوجی ہمیشہ بیٹھک میں ہی پڑے رہتے ہیں، کوئی آنے جانے والا ہو تو کہیں بٹھانے کی جگہ نہیں ہے۔ “

امر کو اب بھی وہ چھوٹا سمجھتے اور بیوی کے سامنے ٹوک دیتے۔ بہو کام کرتی اور ساس پھوھڑپن کے تانے دیتی رہتی۔

“ہمارے آنے سے پہلے بھی کبھی ایسی بات ہی تھی؟” گجادھر بابو نے پوچھا ۔

پتنی نے سر ہلا کر جواب دیا، :نہیں۔”

پہلے امر گھر کا مالک تھا، سارا دن گھر میں دوستوں کا اڈا لگا رہتا، اور باقی کے سب لوگوں کو بھی یہی اچھا لگتا تھا،

امر انکا بڑا بیٹا تھا، وانشج(وارث) تھا، “وہ گھر چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہے؟

اگلے دن صبح گھر لوٹے تو انہوں نے پایا کہ بیٹھک میں انکی چارپائی نہیں ہے۔ اندر آ کر پوچھنے والے تھے کی انکی درشتی (نظر) رسوئی میں بیٹھی پتنی پر پڑی۔ وہ کہنے ہی والے تھے کی” آج کھانا بہو کو بنانا تھا۔ ” پھر امر کی بات سوچ کر چپ ہو گئے۔
پتنی کی کوٹھری میں جھانکا تو اچار، رضائیاں اور کنٹیروں کے بیچ اپنی چارپائی لگی پائی۔ گجادھر بابو نے کوٹ اتارا اور کہیں ٹانگنے کے لئے دیوار پر نظر دوڑائی۔ پھر اس کو موڑ کر الگنی کے کچھ کپڑے کھسکا کر کنارے ٹانگ دیا۔ کچھ کہے بنا اپنی چارپائی پر لیٹ گئے۔ کچھ بھی ہو، جسم آخرکار بوڑھا ہی تھا۔ کچھ دور صبح شام ٹہلنے چلے جاتے، پر آتے آتے تھک جاتے۔

گجادھر بابو کو اپنا بڑا سا کھلا ہوا کواٹر یاد آ گیا۔ نشچت(مخصوص) جیون، صبح پسنجر ٹرین آنے پر ستاتیوں کی چہل پہل، چر پراچت ( جانے پہچانے) چہرے، اور پٹڑی پر ریل کے پہیے کی کھٹ کھٹ جو انکے لئے مدُھر سنگیت کی طرح تھا۔ طوفان اور ڈاک گاڑی کی چنگھاڑ انکی اکیلی راتوں کے ساتھ تھے۔ سیٹھ رام جی مل کے لوگ کبھی کبھی پاس آ بیٹھتے تھے ، وہ انکا ڈیرہ تھا، وہی انکے ساتھی۔

لیٹے ہوئے وہ گھر کے اندر سے آتے وودھ سَوَروں کو سنتے رہے۔ بہو اور ساس کی چھوٹی بڑی جھڑپ، بالٹی پر کھلے نل کی آواز، رسوئی کے برتن کی کھٹ پٹ ، اور اسی میں امر کی آواز میں گھر کا بڑا ہونے کی کڑک۔۔ اچانک انہوں نے تہہ کر لیا، کہ اب گھر کی کسی بات میں دخل نہیں دینگے۔

اس دن کے بعد گجادھر بابو سچ مچ کچھ نہیں بولے ۔ نریندر مانگنے آیا تو اسے بنا پوچھے ہی روپے دے دیئے۔ بسنتی اندھیرا ہو جانے کے بعد بھی گھر دیر سے آتی تو بھی کچھ نہیں کہتے۔ پر انکو یہ بڑا غم تھا کی انکی پتنی نے بھی انکے اندر یہ پروارٹن ( بدلاؤ) لکشے ( محسوس) نہیں کیا۔ سب اپنے کام میں لگے رہتے، پہلے کی طرح ۔ بلکہ کبھی کبھی پتنی کہہ ہی اٹھتی، “ٹھیک ہے، آپ بیچ میں نہ پڑا کیجئے، بچے بڑے ہو گئے ہیں۔ ہمارا جو کرتاویہ ہے، ہم کر رہے ہیں۔ پڑھا رہے ہیں، شادی کر دینگے۔”
وہ پتنی جو انکے لئے مانگ میں سندور بھرتی، اور پورا دن کروا چوتھ کا وَرت رکھتی، وہ اب گھی اور چینی کے ڈبوں میں اتنا رمی ہوئی ہے، کہ اب وہی اسکی سمپورن (مکمّل) دنیا بن گئی ہے۔ اب وہ اسکے جیون کا کیندر ( مرکز) نہیں رہے تھے۔

کسی بات پر دکھل اندازی نہ کرنے کے بعد بھی انکا وجود، اس ماحول کا حصّہ نہ بن سک رہا تھا۔

اتنے سب نشکجیوں (ارادوں) کے بعد بھی گجادھر بابو ایک دن بیچ میں دکھل دے بیٹھے۔ پتنی عادتاً نوکر کی شکایات کر رہی تھی، “کتنا کام چور ہے، بازار کی ہر چیز میں پیسے بناتا ہے، کھانا خانے بیٹھتا ہے تو کھاتا ہی جاتا ہے۔ “

گجادھر بابو کو برابر یہ محسوس ہوتا تھا کی اس غیر کا رہں سہن انکی حیثیت سے کہیں زیادہ ہیں، گھر میں جو بھی کام ہیں سب مل کر بانٹ کر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نوکر کا حساب کر دیا۔

امر دفتر سے آیا تو نوکر کو پکارنے لگا، بہو بولی، “بابوجی نے نوکر کو چھڑا دیا ہے.”

“کیوں؟”

“کہتے ہیں، خرچ بہت ہے۔ ” بہو نے تنک کر جواب دیا۔

بہو نے کہا تو سچ تھا، لیکن اسکا تیکھا پن گجادھر بابو کو چبھ گیا۔

بابوجی کو کسی نے کچھ نہیں کہا۔

“اماں، تم بابوجی سے کہتی کیوں نہیں؟ بیٹھے بٹھائے کچھ نہیں تو نوکر ہی چھڑوا دیا۔ اگر بابوجی یہ سمجھتے ہیں کے میں سائیکل پر گاہوں رکھ کر آتا پسانے جاؤنگا تو مجھ سے یہ نہیں ہوگا۔ ”
“ہاں ماں، ” بسنتی کا سَوَر (آواز) تھا۔ “میں کالج جاؤں بھی اور لوٹ کر گھر میں جھاڑو بھی لگاؤں؟ “

امر بھنبھنایا ’’ ریٹائرڈ ہیں، تبھی بہت فالتو ہیں، اس لئے غیر کی ہر چیز میں دخل دیتے ہیں۔ کچھ نہیں سوجھ، تو میری بیوی کو کچن کے کام کے لئے لگانے لگے۔ “

گجادھر بابو آنکھیں بند کیے، کوٹھری میں لیٹے سب سنتے رہے۔ انکی پتنی چپ چاپ رسوئی میں اپنا کام کرتی رہی، اور کچھ نہ بولی۔

اگلے دن، گجادھر بابو، باہر سے آئے، تو انکے ہاتھ میں ایک چٹھی تھی۔ انہوں نے اپنی پتنی کو پکارا۔

وہ بھیگے ہاتھ لئے اور آنچل سے پوچھتی ہوئی پاس آ کر کھڑی ہوئی۔ زیادہ کچھ کہے بنا وہ بولے ، ” مجھے سیٹھ رام جی مِل کی چینی مِل میں نوکری مل گئی ہے۔ خالی بیٹھے رہنے سے تو بہتر ہے ، چار پیسے گھر میں آئیں گے۔ انہوں نے تو پہلے ہی کہا تھا، لیکن میں نے منع کر دیا تھا۔ ”
پھر کچھ رک کر ، جیسے بجھی ہوئی آگ میں ایک چنگاری چمک اٹھے، انہوں نے دھیمے اور میٹھے سَوَِر میں کہا، “پرسوں جانا ہے، اس بار تم بھی میرے ساتھ چل کر رہوگی۔ “

“میں” وہ سکپکاکر بولی، “میں چلونگی تو یہاں کیا ہوگا؟ اتنی بڑی گراستھی اور پھر سیانی لڑکی۔۔۔”

“ٹھیک ہے، تم یہاں ہی رہو۔ میں نے تو ایسے ہی کہا تھا۔ ” اور اسکے بعد وہ کچھ نہیں بولے۔

جانے والے دن، نریندر نے بڑے ادب سے بستر بندھا، ، بہو نے ناشتے کے لئے ان کے کٹورادان میں لڈو اور مٹھڑی بھر دیئے، گجادھر بابو، رکشہ میں بیٹھ گئے، اور رکشہ چل دیا۔

پیچھے گھر میں آواز آئی،

“بھییا کتنے دن ہو گئے، ہمیں فلم کب دکھاؤگے۔”
بسنتی، جب تو کہے گی ” بھابھی بولی۔

بس موج مستی کرو، کام کا مت سوچنا۔ ” ماں یہ بول کر اپنے چوکے میں چلی گی اور وہاں سے بچی مٹھڑی کو اپنے کمرے میں کنستر میں رکھنے لگی اور آواز دی ” نریندر، بابوجیکی چارپائی میرے کمرے میں سے نکال دے، اس میں چلنے تک کو تو جگہ نہیں ہے

****

Read the same story in Original version in Hindi

वापसी    

लेखका: उषा प्रियंवदा

गजाधर बाबू ने कमरे में जमा सामान पर एक नज़र दौड़ाई – दो बक्स, डोलची, बाल्टी। ”यह डिब्बा कैसा है, गनेशी?” उन्होंने पूछा। गनेशी बिस्तर बाँधता हुआ, कुछ गर्व, कुछ दु:ख, कुछ लज्जा से बोला, ”घरवाली ने साथ में कुछ बेसन के लड्डू रख दिए हैं। कहा, बाबूजी को पसन्द थे, अब कहाँ हम गरीब लोग आपकी कुछ खातिर कर पाएँगे।” घर जाने की खुशी में भी गजाधर बाबू ने एक विषाद का अनुभव किया जैसे एक परिचित, स्नेह, आदरमय, सहज संसार से उनका नाता टूट रहा था।

”कभी-कभी हम लोगों की भी खबर लेते रहिएगा।” गनेशी बिस्तर में रस्सी बाँधता  हुआ बोला।

”कभी कुछ ज़रूरत हो तो लिखना गनेशी, इस अगहन तक बिटिया की शादी कर दो।”

गनेशी ने अंगोछे के छोर से आँखे पोछी, ”अब आप लोग सहारा न देंगे, तो कौन देगा।  आप यहाँ रहते तो शादी में कुछ हौसला रहता।”

गजाधर बाबू चलने को तैयार बैठे थे। रेलवे क्वार्टर का वह कमरा जिसमें उन्होंने कितने वर्ष बिताए थे, उनका सामान हट जाने से कुरूप और नग्न लग रहा था। आँगन में रोपे पौधे भी जान-पहचान के लोग ले गए थे और जगह-जगह मिट्टी बिखरी हुई थी। पर पत्नी, बाल-बच्चों के साथ रहने की कल्पना में यह बिछोह एक दुर्बल लहर की तरह उठ कर विलीन हो गया।
गजाधर बाबू खुश थे¸   पैंतीस साल की नौकरी के बाद वह रिटायर हो कर जा रहे थे।  इन वर्षों में अधिकांश समय उन्होंने अकेले रह कर काटा था।  उन अकेले क्षणों में उन्होंने इसी समय की कल्पना की थी¸ जब वह अपने परिवार के साथ रह सकेंगे।  इसी आशा के सहारे वह अपने अभाव का बोझ ढो रहे थे।  संसार की दृष्टि से उनका जीवन सफल कहा जा सकता था।  उन्होंने शहर में एक मकान बनवा लिया था¸ बड़े लड़के अमर और लडकी कान्ति की शादियाँ कर दी थीं¸ दो बच्चे ऊँची कक्षाओं में पढ़ रहे थे।  गजाधर बाबू नौकरी के कारण प्राय: छोटे स्टेशनों पर रहे,  और उनके बच्चे तथा पत्नी शहर में¸ जिससे पढ़ाई में बाधा न हो।  गजाधर बाबू स्वभाव से बहुत स्नेही व्यक्ति थे और स्नेह के आकांक्षी भी।  जब परिवार साथ था¸ डयूटी से लौट कर बच्चों से हँसते-बोलते,पत्नी से कुछ मनोविनोद करते।  उन सबके चले जाने से उनके जीवन में गहन सूनापन भर उठा। खाली क्षणों में उनसे घर में टिका न जाता।  कवि प्रकृति के न होने पर भी उन्हें पत्नी की स्नेहपूर्ण बातें याद आती रहतीं।  दोपहर में गर्मी होने पर भी, दो बजे तक आग जलाए रहती और उनके स्टेशन से वापस आने पर गर्म-गर्म रोटियाँ सेकती, उनके खा चुकने और मना करने पर भी थोड़ा-सा कुछ और थाली में परोस देती और बड़े प्यार से आग्रह करती।  जब वह थके–हारे बाहर से आते¸ तो उनकी आहट पा वह रसोई के द्वार पर निकल आती, और उनकी सलज्ज आँखें मुस्करा उठतीं।  गजाधर बाबू को तब हर छोटी बात भी याद आती और उदास हो उठते …… अब कितने वर्षों बाद वह अवसर आया था जब वह फिर उसी स्नेह और आदर के मध्य रहने जा रहे थे।

टोपी उतार कर गजाधर बाबू ने चारपाई पर रख दी¸ जूते खोल कर नीचे खिसका दिए¸ अन्दर से रह–रह कर कहकहों की आवाज़ आ रही थी¸ इतवार का दिन था और उनके सब बच्चे इकट्ठे होकर नाश्ता कर रहे थे।  गजाधर बाबू के सूखे होठों पर स्निग्ध मुस्कान आ गई।  उसी तरह मुस्काते हुए, वह बिना खाँसे हुए अन्दर चले गए।  उन्होंने देखा कि नरेन्द्र कमर पर हाथ रखे शायद रात की फिल्म में देखे गए किसी नृत्य की नकल कर रहा था, और बसन्ती हँस-हँस   कर दुहरी हो रही थी।  अमर की बहू को अपने तन–बदन¸ आँचल या घूंघट का कोई होश न था और वह उन्मुक्त रूप से हँस रही थी।  गजाधर बाबू को देखते ही नरेंद्र धप से बैठ गया और चाय का प्याला उठा कर मुँह से लगा लिया।  बहू को होश आया और उसने झट से माथा ढँक लिया¸ केवल बसन्ती का शरीर रह–रह कर हँसी दबाने के प्रयत्न में हिलता रहा।

गजाधर बाबू ने मुसकुराते हुए उन लोगों को देखा।  फिर कहा¸ “क्यों नरेन्द्र¸ क्या नकल हो रही थी? ”

“कुछ नहीं, बाबूजी।” नरेन्द्र ने सिटपिटा कर कहा।  गजाधर बाबू ने चाहा था कि वह भी इस मनोविनोद में भाग लेते¸ पर उनके आते ही जैसे सब कुण्ठित हो चुप हो गए¸ इससे  उनके मन में थोड़ी-सी खिन्नता उपज आई।

बैठते हुए बोले¸ “बसन्ती¸ चाय मुझे भी देना।  तुम्हारी अम्मा की पूजा अभी चल रही है क्या?”

बसन्ती ने माँ की कोठरी की ओर देखा¸  अभी आती ही होंगी, और प्याले में उनके लिए चाय छानने लगी।  बहू चुपचाप पहले ही चली गई थी¸ अब नरेन्द्र भी चाय का आखिरी घूँट पी कर उठ खड़ा हुआ।  केवल बसन्ती, पिता के लिहाज में¸ चौके में बैठी माँ की राह देखने लगी।  गजाधर बाबू ने एक घूँट चाय पी¸  फिर कहा¸ “बेटी – चाय तो फीकी है।”

“लाइए¸ चीनी और डाल दूँ।” बसन्ती बोली।

“रहने दो¸ तुम्हारी अम्मा जब आएगी¸ तभी पी लूँगा।”

थोड़ी देर में उनकी पत्नी हाथ में अर्घ्य का लोटा लिए निकली और अशुद्ध स्तुति कहते हुए तुलसी में डाल दिया।  उन्हें देखते ही बसन्ती भी उठ गई।  पत्नी ने आकर गजाधर बाबू को देखा और कहा¸ “अरे, आप अकेले बैंठें हैं। ये सब कहाँ  गए?”  गजाधर बाबू के मन में फाँस-सी कसक उठी¸  “अपने–अपने काम में लग गए हैं – आखिर बच्चे ही हैं।”

पत्नी आकर चौके में बैठ गई।  उन्होंने नाक–भौं चढ़ाकर चारों ओर जूठे बर्तनों को देखा।  फिर कहा¸ “सारे जूठे बर्तन पड़े हैं।  इस घर में धरम–करम कुछ नहीं।  पूजा करके सीधे चौके में घुसो।” फिर उन्होंने नौकर को पुकारा¸ जब उत्तर न मिला तो एक बार और उच्च स्वर में पुकारा, फिर पति की ओर देखकर बोली¸ “बहू ने भेजा होगा बाज़ार।”  और एक लम्बी साँस ले कर चुप हो रहीं।

गजाधर बाबू बैठ कर चाय और नाश्ते का इन्तजार करते रहे।

उन्हें अचानक ही गनेशी की याद आ गई।  रोज सुबह¸ पॅसेंजर आने से पहले यह गरम–गरम पूरियां और जलेबियां और चाय लाकर रख देता था।  चाय भी कितनी बढ़िया¸ कांच के गिलास में उपर तक भरी लबालब¸ पूरे ढ़ाई चम्मच चीनी और गाढ़ी मलाई।  पैसेंजर भले ही रानीपुर लेट पहुँचे¸ गनेशी ने चाय पहुँचाने में कभी देर नहीं की।  क्या मज़ाल कि कभी उससे कुछ कहना पड़े।
पत्नी का शिकायत भरा स्वर सुन उनके विचारों में व्याघात पहुँचा।  वह कह रही थी¸ “सारा दिन इसी खिच–खिच में निकल जाता है।  इस गृहस्थी का धन्धा पीटते–पीटते उम्र बीत गई।  कोई जरा हाथ भी नहीं बटाता।”
“बहू क्या किया करती हैं?” गजाधर बाबू ने पूछा।

“पड़ी रहती है।  बसन्ती को तो¸ कहेगी कि  कॉलेज जाना होता हैं।”

गजाधर बाबू ने जोश में आकर बसन्ती को आवाज दी।  बसन्ती भाभी के कमरे से निकली तो गजाधर बाबू ने कहा¸ “बसन्ती¸ आज से शाम का खाना बनाने की ज़िम्मेदारी तुम पर है।  सुबह का भोजन तुम्हारी भाभी बनाएगी।” बसन्ती मुँह लटका कर बोली¸ “बाबूजी¸ पढ़ना भी तो होता है।”

गजाधर बाबू ने प्यार से समझाया¸ “तुम सुबह पढ़ लिया करो।  तुम्हारी माँ बूढ़ी हुई¸ अब वह शक्ति नहीं बची है।  तुम हो¸ तुम्हारी भाभी हैं¸ दोनों को मिलकर काम में हाथ बंटाना चाहिए।”

बसन्ती चुप रह गई।  उसके जाने के बाद उसकी माँ ने धीरे से कहा¸ “पढ़ने का तो बहाना है। कभी जी ही नहीं लगता¸ लगे कैसे?  शीला से ही फुरसत नहीं।  बड़े-बड़े लड़के है उस घर में¸ हर वक्त वहाँ घुसा रहना मुझे नहीं सुहाता।  मना करुँ तो सुनती नहीं।”

घर में गजाधर बाबू के रहने के लिए कोई स्थान न बचा था।  जैसे किसी मेहमान के लिए कुछ अस्थायी प्रबन्ध कर दिया जाता है¸ उसी प्रकार बैठक में कुर्सियों को दीवार से सटाकर बीच में गजाधर बाबू के लिए पतली–सी चारपाई डाल दी गई थी।  गजाधर बाबू उस कमरे में पड़े पड़े कभी–कभी अनायास ही,  इस अस्थायित्व का अनुभव करने लगते।  उन्हें याद आती उन रेलगाडियों की जो आती और थोड़ी देर रूक कर किसी और लक्ष्य की ओर चली जाती।

घर छोटा होने के कारण बैठक में ही अब वह प्रबन्ध किया गया था।  उनकी पत्नी के पास अन्दर एक छोटा कमरा अवश्य था¸ पर वह एक ओर अचारों के मर्तबान¸ दाल¸ चावल के कनस्तर और घी के डिब्बों से घिरा था – दूसरी ओर पुरानी रजाइयाँ¸ दरियों में लिपटी और रस्सी से बंधी रखी थी,  उनके पास एक बड़े से टीन के बक्स में घर–भर के गर्म कपड़े थे।  बींच में एक अलगनी बंधी हुई थी¸ जिस पर प्राय: बसन्ती के कपड़े लापरवाही से पड़े रहते थे।  वह  अकसर उस कमरे में नहीं जाते थे।  घर का दूसरा कमरा अमर और उसकी बहू के पास था। तीसरा कमरा¸ जो सामने की ओर था, बैठक था।  गजाधर बाबू के आने से पहले उसमें अमर के ससुराल से आया बेंत का तीन कुरसियों का सेट पड़ा था।  कुर्सियों पर नीली गद्दियां और बहू के हाथों के कढ़े कुशन थे।

जब कभी उनकी पत्नी को कोई लम्बी शिकायत करनी होती¸ तो अपनी चटाई  बैठक में डाल पड़ जाती थीं।  वह एक दिन चटाई ले कर आ गई तो गजाधर बाबू ने घर–गृहस्थी की बातें छेड़ी,  वह घर का रवैया देख रहे थे।  बहुत हलके से उन्होंने कहा कि अब हाथ में पैसा कम रहेगा¸ कुछ खर्चा कम करना चाहिए।

“सभी खर्च तो वाजिब–वाजिब है¸ न मन का पहना¸ न ओढ़ा।”

गजाधर बाबू ने आहत¸ विस्मित दृष्टि से पत्नी को देखा।  उनसे अपनी हैसियत छिपी न थी। उनकी पत्नी तंगी का अनुभव कर उसका उल्लेख करतीं।  यह स्वाभाविक था¸ लेकिन उनमें सहानुभूति का पूर्ण अभाव गजाधर बाबू को बहुत खतका।  उनसे य्दि राय–बात की जाती कि प्रबन्ध कैसे हो¸ तो उनहें चिन्ता कम¸ संतोष अधिक होता लेकिन उनसे तो केवल शिकायत की जाती थी¸ जैसे परिवार की सब परेशानियों के लिए वही जिम्मेदार थे।

“तुम्हे कमी किस बात की है अमर की माँ – घर में बहू है¸ लड़के–बच्चे हैं¸ सिर्फ रूपये से ही आदमी अमीर नहीं होता।”  गजाधर बाबू ने कहा और कहने के साथ ही अनुभव किया।  यह उनकी आन्तरिक अभिव्यक्ति थी – ऐसी कि उनकी पत्नी नहीं समझ सकती।

“हाँ ¸ बड़ा सुख है न बहू से।  आज रसोई करने गई है¸ देखो क्या होता हैं?” कहकार पत्नी ने आंखे मूंदी और सो गई।  गजाधर बाबू बैठे हुए पत्नी को देखते रह गए।  यही थी क्या उनकी पत्नी¸जिसके हाथों के कोमल स्पर्श¸ जिसकी मुस्कान की याद में उन्होंने सम्पूर्ण जीवन काट दिया था? उन्हें लगा कि वह लावण्यमयी युवती जीवन की राह में कहीं खो गई और उसकी जगह आज जो स्त्री है¸ वह उनके मन और प्राणों के लिए नितान्त अपरिचिता है।  गाढ़ी नींद में डूबी उनकी पत्नी का भारी शरीर बहुत बेडौल और कुरूप लग रहा था¸ श्रीहीन और रूखा था।  गजाधर बाबू देर तक निस्वंग दृष्टि से पत्नी को देखते रहें और फिर लेट कर छत की ओर ताकने लगे।

अन्दर कुछ गिरा  और उनकी पत्नी हड़बड़ा कर उठ बैठी, “लो बिल्ली ने कुछ गिरा दिया शायद,”और कह अंदर भागी।  थोड़ी देर में लौट कर आई तो उनका मुँह फूला हुआ था।  “देखा बहू को¸चौका खुला छोड़ आई¸ बिल्ली ने दाल की पतीली गिरा दी।  सभी खाने को है¸ अब क्या सिखाऊंगी?”  वह सांस लेने को रूकी और बोली¸ “एक तरकारी और चार पराठे बनाने में सारा डिब्बा घी उंडेलकर रख दिया। जरा-सा दर्द नहीं हैं¸ कमानेवाला हाड़ तोड़े, और यहाँ  चीजें लुटें। मुझे तो मालूम था कि यह सब काम किसी के बस का नहीं हैं।”

गजाधर बाबू को लगा कि पत्नी कुछ और बोलेंगी तो उनके कान झनझना उठेंगे।  ओंठ भींच, करवट ले कर उन्होंने पत्नी की ओेर पीठ कर ली।

रात का भोजन बसन्ती ने ऐसा बनाया था कि कौर तक निगला न जा सके। गजाधर बाबू चुपचाप खा कर उठ गये, पर नरेन्द्र थाली सरका कर उठ खड़ा हुआ और बोला¸ “मैं ऐसा खाना नहीं खा सकता।”

बसन्ती तुनककर बोली¸ “तो न खाओ¸ कौन तुम्हारी खुशामद कर रहा है।”

“तुमसे खाना बनाने को किसने कहा था?”  नरेंद्र चिल्लाया।

“बाबूजी ने”

“बाबू जी को बैठे बैठे यही सूझता है।”

माँ ने नरेंद्र को मनाया और अपने हाथ से कुछ बना कर खिलाया।  गजाधर बाबू ने बाद में पत्नी से कहा¸ “इतनी बड़ी लड़की हो गई और उसे खाना बनाने तक का सहूर नहीं आया?”

“अरे आता सब कुछ है¸ करना नहीं चाहती।”  पत्नी ने उत्तर दिया।  अगली शाम माँ को रसोई में देख कपड़े बदल कर बसन्ती बाहर आई तो बैठक में गजाधर बाबू ने टोंक दिया¸ ” कहाँ  जा रही हो?”

“पड़ोस में शीला के घर।”

“कोई जरूरत नहीं हैं¸ अन्दर जा कर पढ़ो।” गजाधर बाबू ने कड़े स्वर में कहा।  कुछ देर खड़े रह कर बसन्ती अन्दर चली गई।
गजाधर बाबू शाम को रोज टहलने चले जाते थे¸ लौट कर आये तो पत्नी ने कहा¸ “क्या कह दिया बसन्ती से?  शाम से मुँह लपेटे पड़ी है।  खाना भी नहीं खाया।”

पत्नी की बात का उन्होंने उत्तर नहीं दिया। मन में निश्चय कर लिया कि बसन्ती की शादी जल्दी ही कर देनी है।  उस दिन के बाद बसन्ती पिता से बची–बची रहने लगी।  जाना हो तो पिछवाड़े से जाती।  गजाधर बाबू ने दो–एक बार पत्नी से पूछा तो उत्तर मिला¸ “रूठी हुई हैं।”  फिर उनकी पत्नी ने ही सूचना दी कि अमर अलग होने की सोच रहा हैं।

“क्यों?”  गजाधर बाबू ने चकित हो कर पूछा।

पत्नी  ने साफ–साफ उत्तर नहीं दिया।  “अमर और उसकी बहू की शिकायतें बहुत थी।  उनका कहना था कि गजाधर बाबू हमेशा बैठक में ही पड़े रहते हैं¸ कोई आने–जानेवाला हो तो कहीं बिठाने की जगह नहीं।“

अमर को अब भी वह छोटा सा समझते थे और मौके–बेमौके टोक देते थे।  बहू को काम करना पड़ता था और सास जब–तब फूहड़पन पर ताने देती रहती।
“हमारे आने के पहले भी कभी ऐसी बात हुई थी?”  गजाधर बाबू ने पूछा।  पत्नी  ने सिर हिलाकर जताया, “नहीं!”  पहले अमर घर का मालिक था¸ अमर के दोस्तों का यहीं अड्डा जमा रहता था sab को भी वही अच्छा लगता था।

अमर उनका बार बेटा था, वंशज था. “वोह घर छोढ़ केर कैसे जा सकता है. ”

अगले दिन सुबह घूम कर लौटे तो उन्होंने पाया कि बैठक में उनकी चारपाई नहीं हैं।  अन्दर आकर पूछने वाले ही थे कि उनकी दृष्टि रसोई के अन्दर बैठी पत्नी पर पड़ी।
वोह कहने ही वाले थे ” अज बहु की बारी है, ” फिर अमर की बात सोच केर चुप हो गए.

पत्नी की कोठरी में झांका तो अचार¸ रजाइयों और कनस्तरों के मध्य अपनी चारपाई लगी पाई। गजाधर बाबू ने कोट उतारा और कहीं टांगने के लिए दीवार पर नज़र दौड़ाई।  फिर उसपर मोड़ कर अलगनी के कुछ कपड़े खिसका कर एक किनारे टांग दिया।  कुछ खाए बिना ही अपनी चारपाई पर लेट गए।  कुछ भी हो¸ तन आखिरकार बूढ़ा ही था।  सुबह शाम कुछ दूर टहलने अवश्य चले जाते¸पर आते आते थक   जाते ।
गजाधर बाबू को अपना बड़ा सा¸ खुला हुआ क्वार्टर याद आ गया।  निश्चित जीवन – सुबह पॅसेंजर ट्रेन आने पर स्टेशन पर की चहल–पहल¸ चिर–परिचित चेहरे और पटरी पर रेल के पहियों की खट्‌–खट्‌ जो उनके लिए मधुर संगीत की तरह था।  तूफान और डाक गाडी के इंजिनों की चिंघाड उनकी अकेली रातों की साथी थी।  सेठ रामजीमल की मिल के कुछ लोग कभी कभी पास आ बैठते¸ वह उनका दायरा था¸ वही उनके साथी।

लेटे  हुए वह घर के अन्दर से आते विविध स्वरों को सुनते रहे।  बहू और सास की छोटी–bari  झड़प¸ बाल्टी पर खुले नल की आवाज¸ रसोई के बर्तनों की खटपट और अमर की आवाज़ में घर के बड़े होने की कड़क– और अचानक ही उन्होंने निश्चय कर लिया कि अब घर की किसी बात में दखल न देंगे।

और उस दिन के बाद सचमुच गजाधर बाबू कुछ नहीं बोले।  नरेंद्र माँगने आया तो उसे बिना कारण पूछे रूपये दे दिये बसन्ती काफी अंधेरा हो जाने के बाद भी पड़ोस में रही तो भी उन्होंने कुछ नहीं कहा – पर उन्हें सबसे बड़ा ग़म यह था कि उनकी पत्नी ने भी उनमें कुछ परिवर्तन लक्ष्य नहीं किया। सब अपने काम में लगे रहते पहले की तरह .
बल्कि उन्हें पति के घर के मामले में हस्तक्षेप न करने के कारण शान्ति ही थी।  कभी–कभी कह भी उठती¸ “ठीक ही हैं¸ आप बीच में न पड़ा कीजिए¸ बच्चे बड़े हो गए हैं¸ हमारा जो कर्तव्य था¸कर रहें हैं।  पढ़ा रहें हैं¸ शादी कर देंगे।”

वोह पत्नी जो उनके लिए मांग में सिन्दूर भेरती, और करवा चौथ का व्रत रखती, वोह अब  घी और चीनी के डब्बों में इतना रमी हुई हैं कि अब वही उस्की  सम्पूर्ण दुनिया बन गई हैं।  वह अब उसके जीवन का  केंद्र नहीं रहे .
किसी बात में हस्तक्षेप न करने के बाद भी उनका अस्तित्व उस वातावरण का एक भाग न बन
सक रहे थे .

इतने सब निश्चयों के बावजूद भी गजाधर बाबू एक दिन बीच में दखल दे बैठे।  पत्नी  स्वभावानुसार नौकर की शिकायत कर रही थी¸ “कितना कामचोर है¸ बाज़ार की हर चीज में पैसा बनाता है¸ खाना खाने बैठता है तो खाता ही चला जाता हैं।  “गजाधर बाबू को बराबर यह महसूस होता रहता था कि उनके रहन सहन और खर्च उनकी हैसियत से कहीं ज्यादा हैं। उन्होंने उसी दिन नौकर का हिसाब कर दिया।  घर में जो भी काम हैं , सब मिल कर कर सकते हैं.
अमर दफ्तर से आया तो नौकर को पुकारने लगा।  अमर की बहू बोली¸ “बाबूजी ने नौकर छुड़ा दिया हैं।”

“क्यों?”

“कहते हैं¸ खर्च बहुत है।” बहु ने तीखा जवाब दिया .
बहु ने कहा तो सच था लेकिन उसका तीखापन गजाधर बाबु को चुभ गया .
“अम्मां¸ तुम बाबूजी से कहती क्यों नहीं? बैठे–बिठाये कुछ नहीं तो नौकर ही छुड़ा दिया।  अगर बाबूजी यह समझें कि मैं साइकिल पर गेंहूं रख आटा पिसाने जाऊंगा तो मुझसे यह नहीं होगा।”

“हाँ  अम्मा¸”  बसन्ती का स्वर था¸ ” मैं कॉलेज भी जाऊं और लौट कर घर में झाडू भी लगाऊं ।”

अमर भुनभुनाया¸ “रिटायर्ड   हैं, फालतू टाइम है तो घर की हेर चीज़ मैं दखल देते हैं. कुछ नहीं तो मेरी बीवी को ही किचेन के काम में लगाने लगे .”

वह चुप¸ आंखे बंद किये लेट,  सब सुनते  रहे.
अगले दिन बहार से आये तो उनके हाथ में एक चिठ्ठी थी. और अपनी पत्नी को पुकारा. वह भीगे हााथ लिये निकलीं और आंचल से पोंछती हुई पास आ खड़ी हुई।
गजाधर बाबू ने बिना किसी भूमिका के कहा¸ “मुझे सेठ रामजीमल की चीनी मिल में नौकरी मिल गई हैं।  खाली बैठे रहने से तो  चार पैसे घर में आएं।  उन्होंने तो पहले ही कहा था¸ मैंने मना कर दिया था।”  फिर कुछ रूक कर¸ जैसी बुझी हुई आग में एक चिनगारी चमक उठे¸ उन्होंने धीमे स्वर में कहा¸  “परसों जाना हैं। इस बार  तुम भी मेरे साथ चल केर रहोगी.”

“मैं?”  पत्नी ने सकपकाकर कहा¸ “मैं चलूंगी तो यहाँ  क्या होगा?  इतनी बड़ी गृहस्थी¸ फिर सयानी लड़की . . . ..”

बात  बीच में काट कर गजाधर बाबू ने हताश स्वर में कहा¸ “ठीक हैं¸ तुम यहीं रहो।  मैंने तो ऐसे ही कहा था।”  और गहरे मौन में डूब गए। इस के बाद फिर वह कुछ नहीं बोले.

जाने वाले दिन  नरेंद्र ने बड़ी अदब से बिस्तर बांधा बहु ने उनके कटोरदान में लाडू और मठरी भर दिए. गजाधर बाबु रिक्शा में बैठ गए, और रिक्शा चल दिया.

अंदर घर में आवाज़ आई

“भैय्या हमें फिल्म कब दिखाओगे ?”

“जब तू कहेगी.” भाभी बोली.

“बस मौज मस्ती करना, कम का ध्यान मत करना .” यह कह कर माँ चौके में चली गयी. वहां से मठरियां समित कर कनस्टर में रखने लगी तो आवाज़ दी,”अरे नरेन्द्र¸ बाबूजी की चारपाई कमरे से निकाल दे¸ उसमें चलने तक को  ” तो जगह नहीं है. ”

 ***

Advertisements
This entry was posted in Indian Writers and tagged , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

One Response to Wapsi… by Usha Priyamvada.

  1. anoop singh says:

    100%true kahani.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s