Farq… by Vishnu Prabhakar

Photo by Irish_Guy


فرق

وشنو پربھاکر
ترجمہ : شیراز حسن

اس دن اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کی سرحد کو دیکھا جائےجو کہ ایک ملک تھا، وہ اب دو ہو کر کیسا لگتا ہے۔ دو تھے، تو دونوں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ دونوں جانب پہرہ تھا۔ درمیان میں کچھ زمین ہوتی ہے، جس پر کسی کا حق نہیں ہوتا۔ دونوں اس پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ وہ وہیں کھڑا تھا، لیکن تنہا نہیں تھا۔ بیوی تھی اور تھے اٹھارہ مسلح فوجی اور ان کا کمانڈر بھی۔ دوسرے ملک کے فوجیوں کے سامنے وہ اسے اکیلا کیسے چھوڑ سکتے تھے۔ اتنا ہی نہیں، کمانڈر نے اس کے کان میں کہا، “ادھر کے فوجی آپ کو چائے کے لئے بلا سکتے ہیں، جایئے گا نہیں۔ پتہ نہیں کیا ہو جائے؟ آپ کی بیوی ساتھ میں ہے اور پھر کل ہم نے ان کے چھ اسمگلر مار ڈالے تھے۔”

اس نے جواب دیا، “جی نہیں، میں اُدھر کیسے جا سکتا ہوں؟”

اور من ہی من میں کہا، ‘مجھے آپ اتنا بے وقوف کیسے سمجھتے ہیں؟ میں انسان ہوں، اپنے پرائے میں فرق کرنا جانتا میں ہوں۔ اتنی سجھ مجھ میں ہے۔ ‘

وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ واقعی اُدھر کے فوجی وہاں آ پہنچے۔ رعب دار پٹھان تھے۔ بڑے تپاک سے ہاتھ ملایا۔ اس دن عید تھی ۔ اس نے انہیں مبارک باد کہا۔ بڑی گرمجوشی کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ ملا کر وہ بولے، ‘ادھر تشریف لائیں۔ ہم لوگوں کے ساتھ ایک پیالہ چائےپیجیے۔’

اس کا جواب اس کے پاس تیار تھا۔ انتہائی خاموشی سے مسکرا کر اس نے کہا، ‘بہت بہت شکریہ۔ بڑی خوشی ہوتی آپ کے ساتھ بیٹھ کر، لیکن مجھے آج ہی واپس لوٹنا ہے اور وقت بہت کم ہے۔ آج تو معافی چاہتا ہوں۔ ‘

اسی طرح نرمی سے کچھ اور باتیں ہوئیں کہ پاکستان کی جانب سے کلانچیں بھرتا ہوا بکریوں کا ایک ریوڑ ان کے پاس سے گزرا اور بھارت کی سرحد میں داخل ہو گیا۔ ایک ساتھ سب نے ان کی طرف دیکھا۔ ایک لمحہ بعد اس نے پوچھا، “یہ آپ کی ہیں؟ ‘

ان میں سے ایک فوجی نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “جی ہاں، جناب، ہماری ہیں۔ جانور ہیں، فرق کرنا نہیں جانتے۔ ‘


***
फर्क

विष्णु प्रभाकर

उस दिन उसके मन में इच्छा हुई कि भारत और पाक के बीच की सीमा–रेखा को देखा जाए। जो कि एक देश था, वह अब दो होकर कैसा लगता है। दो थे, तो दोनों एक दूसरे के प्रति शंकालु थे। दोनों ओर पहरा था। बीच में कुछ भूमि होती है, जिस पर किसी का अधिकार नहीं होता। दोनों उस पर खड़े हो सकते हैं। वह वहीं खड़ा था, लेकिन अकेला नहीं था–पत्नी थी और थे अठारह सशस्त्र सैनिक और उनका कमांडर भी। दूसरे देश के सैनिकों के सामने वे उसे अकेला कैसे छोड़ सकते थे। इतना ही नहीं, कमांडर ने उसके कान में कहा, ‘उधर के सैनिक आपको चाय के लिए बुला सकते हैं, जाइएगा नहीं। पता नहीं क्या हो जाए ? आपकी पत्नी साथ में है और फिर कल हमने उनके छह तस्कर मार डाले थे।‘
उसने उत्तर दिया, ‘जी नहीं, मैं उधर कैसे जा सकता हूं ?‘
और मन नही मन कहा, ‘मुझे आप इतना मूर्ख कैसे समझते हैं ? मैं इंसान हूँ, अपने–पराये में भेद करना जानता मैं हूँ। इतना विवेक मुझमें है।‘
वह यह सब सोच ही रहा था कि सचमुच उधर के सैनिक वहां आ पहुंचे। रोबीले पठान थे। बड़े तपाक से हाथ मिलाया। उस दिन ईद थी–उसने उन्हें मुबारकबाद कहा। बड़ी गर्मजोशी के साथ एक बार फिर हाथ मिलाकर वे बोले, ‘उधर तशरीफ लाइए। हम लोगों के साथ एक प्याला चाय पीजिए।‘
इसका उत्तर उसके पास तैयार था। अत्यंत विनम्रता से मुस्कराकर उसने कहा, ‘बहुत–बहुत शुक्रिया। बड़ी खुशी होती आपके साथ बैठकर, लेकिन मुझे आज ही वापस लौटना है और वक्त बहुत कम है। आज तो माफी चाहता हूँ।‘
इसी प्रकार शिष्टाचार की कुछ और बातें हुईं कि पाकिस्तान की ओर से कुलाँचे भरता हुआ बकरियों का एक दल उनके पास से गुजरा और भारत की सीमा में दाखिल हो गया। एक साथ सबने उनकी ओर देखा। एक क्षण बाद उसने पूछा, ‘ये आपकी हैं ?‘
उनमें से एक सैनिक ने गहरी मुस्कराहट के साथ उत्तर दिया, ‘जी हाँ, जनाब, हमारी हैं। जानवर हैं, फर्क करना नहीं जानते।‘

Advertisements
This entry was posted in Indian Writers and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

8 Responses to Farq… by Vishnu Prabhakar

  1. Rachna says:

    A beautiful story. Lays bare how constricted we have made our mindsets. This blog is building a nice collection. Looking forward to more… 🙂

  2. Ugly Shoelace says:

    Pretty little story 🙂

  3. करन says:

    بہت ہی أمدا لیکھ ہے ۔ پڑھ کر مزہ آ گیا ۔ آپ کے اس ادبھت بلاگ کو RSS یہ بھر Twitter کے ذریعے سبسکرائب کرنا چاہ رہا تھا ، پر مجھے کوئی طریقہ نہیں مل پایا ۔ بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ ایسی سروس چالو کر سکیں تو ۔

  4. hamid says:

    جانور ہیں، فرق کرنا نہیں جانتے۔ ‘
    یار کیا جملہ لگایا ہے، اشرف المخلوقات کو، جیتے رہو بھائی

  5. paramjit singh says:

    thats true because the song ‘panchi nadiya pawan kei jhoke koi sarhad inhe naa roke'(birds animals rivers air can not be always stopped from borders) is a fact and is written for these borders only

  6. There should also be a version in English 🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s