Aurat… By Vikesh Nijhawan

girl-with-veil_web

Girl with veil

عورت
افسانہ نگار: وکیش نجھاون

ترجمہ: شیراز حسن 

گرجا آج پھر اس عورت کو لے کر آیا تھا۔ وہی دبلی پتلی، موٹی موٹی آنکھیں، تیکھی ناک اور سانولے رنگ والی عورت۔

گزشتہ تین ماہ میں یہ عورت ساتویں بار آ چکی ہے۔ سمترا نے دیکھا تو پل بھر کے لئے سہم سی گئی۔ کالے سوٹ میں یہ عورت اسے کسی چڑیل سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ لیکن یہ سفید بھی پہن لے ہے تو چڑیل ہی۔ کس طرح سے اس کے گھر کو کھائے چلی جا رہی ہے، سمترا نے دل ہی دل میں سوچا۔

اے! یہ بٹر بٹر کیا دیکھے جا رہی ہے؟ اندر جا اور جلدی سے دو پیالی چائے بنا کر لا۔ گرجا چلایا تو سمترا نے جھٹ سے اپنے کو سنبھالا۔ وہ تیزی سے باورچی خانے کی طرف مڑی تھی۔

باورچی خانے میں آتے ہی سمترا کے اندر کا بند آنکھوں کے راستے پھوٹ پڑا۔ ایک بار تو وہ پھپھک پڑی تھی۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے دوپٹے کو دانتوں کے درمیان ٹھوس لیا۔ کہیں رونے کی آواز گرجا تک پہنچ گئی تو اس کی خیر نہیں۔

پہلی بار جب سمترا کے رونے کی آواز گرجا کے کانوں تک پہنچی تھی تو وہ دھاڑتا ہوا اندر آیا تھا – اے یہ گٹرگوں کیا لگا رکھی ہے؟ بند کر یہ مگرمچھ کے آنسو۔ سمترا کی زیادہ پرواہ کئے بِنا گرجا اس عورت کو لے کر اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا۔

یہ سب کیا ہے، سمترا سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس کا جسم ٹھنڈا پڑ گہا تھا۔ زبان تو جیسے کسی نے کاٹ ہی ڈالی ہو۔

ایک ہی کمرہ ہے گرجا کے پاس اور اس میں بھی وہ پرائی عورت کو لے کر بند ہو گیا۔ ایسا تو سمترا نے نہ کبھی دیکھا نہ سنا تھا۔ اپنا یہ دکھ وہ کہے بھی کس سے۔ لوگوں کے لئے تو تماشا بن کر رہ جائے گا۔ اماں سے ؟ نہ ، نہ ! رو رو کر جان گنوا دے گی۔

پورے تین گھنٹے وہ عورت اندر رہی تھی۔ اور ان تین گھنٹے میں سمترا باورچی خانے کی دیوار سے چھپکلی کی طرح چپکی رہی تھی۔ اس عورت کے جاتے ہی گرجا باورچی خانے میں گھسا تھا۔ کچھ دال روٹی بنائی کہ نہیں؟

سمترا اسی حالت میں بیٹھی رہی تو گرجا اس ٹھوڑھی کو اوپر اٹھاتے ہوئے بولا تھا – اے! تھوبڑا کیوں سوج گیا تیرا؟ جل بھن گئی کیا اس عورت کو دیکھ کر؟ اری اپن نے تیرے کو تو اس گھر سے نہیں نکالا۔ رام قسم جو کبھی تیرے کو اپنا نہ سمجھا ہو۔ یہ تو ٹیمپریری تھی۔ مل گئی سو لے آیا۔ تو کاہے جی کو جلاتی ہے۔ چل اٹھ اور روٹی بنا۔

آنکھوں کو دوپٹے سے پوچھتی ہوئی سمترا اٹھی تھی۔ گرجا کی صاف سی باتوں سے وہ نرم بھی پڑگئی۔ خود کو گرجا کی چھاتی سے سٹاتی بولی تھی ، مجھے تو نہیں چھوڑ دے گا تو؟

کیسی بات کرتی ہے تو! میرے پر یقین نہیں تیرے کو؟ گرجا دیر تک سمترا کے بالوں کو سہلاتا رہا۔ سمترا کے اندر کا اوش دھیرے دھیرے ڈھلتا چلا گیا تھا۔ پیار بھری نظروں سے وہ گرجا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی ، گرجا تو اگر مجھے سچ میں چاہتا ہے تو کہہ کہ آگے سے اس عورت کو نہیں لائے گا۔

اچھا بابا نہیں لائونگا۔

سچ میں اس عورت کو نہیں لائے گا نہ؟

صرف اس عورت کو ہی نہیں کسی کو بھی نہیں لائونگا۔

اور تو بھی کسی کے پاس نہیں جائے گا؟

نہیں جاوںگا بابا! اور کچھ؟

ساتویں دن جب گرجا اسی عورت کو لے کر گھر میں گھسا تو سمترا کے پائوں تلے سے زمین ہی کھسک گئی۔گرجا نے اندر آتے ہی حکم دیا تھا ۔ اے! باہر چل کر بیٹھ۔ دیکھنا کوئی اندر نہ آئے۔ کوئی میرا پوچھے تو بولنا گھر پر نہیں ہے۔

دوپٹے میں آدھا منہ چھپائے وہ عورت گرجا کے پیچھے پیچھے اندر چلی آئی تھی۔

چھوٹی چھوٹی بندیوں والا نیلے رنگ کا سوٹ اور اس پر نیلے ہی رنگ کا دوپٹہ۔ پہلے تو سمترا کو لگا جیسے یہ کوئی دوسری عورت ہے۔ لیکن جب اس نے اپنے آدھے چہرے سے دوپٹہ ہٹایا تو سمترا کی نظر براہ راست اس کے موٹے تل پر جا پڑی تھی۔ سمترا سمجھ گئی تھی کہ اب یہ عورت اس کا گھر برباد کر کے ہی چھوڑے گی۔

سمترا کا خیال ٹھیک ہی نکلا تھا۔ اب تو ہفتہ میں ایک بار نہیں دو دو بار آنے لگی تھی وہ۔ پچھلی بار تو سمترا نے اپنی آنکھوں سے گرجا کو اسے نوٹ پکڑاتے دیکھا تھا۔ تب تو سمترا خود کو روک ہی نہیں پائی تھی۔ اس عورت کے جاتے ہی پھٹ پڑی تھی۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے گرجا؟

کچھ بھی تو نہیں! بڑے اطمینان کے ساتھ گرجا بولا تھا۔

تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ۔۔

تیرا کچھ لے گئی کیا؟ گرجا اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا تھا۔

ابھی تک تو نہیں لے گئی۔ لیکن ایک دن تو لے جائے گی۔

تو اس دن کا انتظار کر۔

نہیں گرجا میں۔۔

اے شیرنی کی بچی! دہاڈنے کی ضرورت نہیں ہے۔

گرجا نے تپاک سے ایک تھپڑ سمترا کے گال پر رسید کر دیا تھا۔ اگر مزید بک بک کی نہ یہاں سے چلتی کروں گا تیرے کو، سمجھی؟ چپ رہی تو ساری زندگی ٹکائے رکھوں گا۔

سمترا زار زار رو دی تھی۔ اجڑ گئی وہ تو۔ من تو ہوا تھا اس کا کہ چھاتی پیٹ لے۔ لیکن بات اماں تک پہنچ گئی تو یوں ہی جان دے دے گی۔ بہت دکھ دیکھے ہیں اس نے زندگی میں۔ اب اور نہیں سہہ پائے گی۔ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی تھی سمترا۔

آج ان دونوں کو دیکھ کر سمترا کو حیرت تو نہیں ہوئی تھی لیکن اندر سے جی تو اتنا ہی جلتا ہے۔ اپنے غصے کو تو اس نے پوری طرح سے قابو کر لیا تھا۔
سمترا تین پیالی چائے بنا لائی۔

یہ تیسری پیالی کس کے لئے؟ گرجا حیرت سے بھر کر بولا۔
میں پیوں گی! سمترا سامنے والی چھوٹی تپائی پر بیٹھتے ہوئے بولی، گرجا کی آنکھوں میں حیرت اور شبہ کے ملے جلے جذبات تیر آئے تھے۔

سمترا نے بڑے آرام سے ان دونوں کے سامنے چائے پی، چائے ختم ہوتے ہی سمترا نے نظر بھر کر اس عورت کی طرف دیکھا اور تیزی سے باہر کو آ گئی۔ باہر آتے ہوئے اس نے اندر والا دروازہ بغیر سنگل لگائے بند کر دیا۔

پہلے تو ایسی حالت میں سمترا ایک ہی جگہ بیٹھی گھنٹوں گزار دیتی تھی۔ لیکن آج تو وہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ باورچی خانے میں جا کر ثابت مونگ کی دال چڑھا دی جو گرجا کو بہت پسند ہے۔ صبح کریلوں کو چھیل کر ان پر نمک لگا کر رکھا تھا انہیں سرسوں کے تیل میں چھونک دیا. گرجا باہر آئے تو وہ گرم گرم پُھکلا اتار دے گی۔

سارا کام ختم ہونے کے بعد بھی سمترا کو ڈیوڑھی میں بیٹھ انتظار کرنا پڑا۔کوئی آدھ گھنٹے بعد دروازے قی چٹخنی کھلی۔ دوپٹہ سنبھالتی ہوئی وہ عورت باہر کو نکلی تھی۔

سمترا نے نظر بھر کر اس عورت کی طرف دیکھا تو وہ عورت اچانک چیخ پڑی۔ اے! یوں گھور گھور کر کیا دیکھ رہی ہے مجھے؟

سمترا چپ بنی رہی تو وہ دوبارہ چلائی۔ تو کیسی عورت ہے ری! تیرا مرد گھر پر عورت لاتا ہے اور تو چپ بنی بیٹھی ہے۔ تیری جگہ میں ہوتی نا، نوچ دیتی اسے۔

سمترا اب بھی چپ بنی رہی تو وہ اسی رَو میں بولی۔ میں تو آئوں گی۔ پیٹ نہیں بھرنا مجھے کیا۔ تجھے روکنا ہے تو اپنے مرد کو روک۔ کل کو میں نہیں آئوں گی تو کوئی دوسری لے آئے گا۔

وہ عورت ہاپنے لگی تھی۔ سمترا کو اب بھی چپ دیکھ اس نے پچ سے نالی میں تھوکا اور تیزی سے باہر کو نکل گئی۔

***********

औरत

विकेश निझावन

गिरजा आज फिर उस औरत को साथ लाया था.वही दुबली पतली मोटी-मोटी आंखें तीखी नाक और सांवले रंग वाली औरत.

पिछले तीन माह में यह औरत सातवीं बार आ चुकी है.सुमित्रा ने देखा तो पल भर के लिए सहम सी गई.काले सूट में यह औरत उसे किसी चुडैल से कम नहीं लग रही थी.लेकिन यह सफेद भी पहन ले है तो चुडैल ही.किस तरह से उसके घर को खाए चली जा रही है सुमित्रा ने मन ही मन सोचा.

ऐऽ! ये बिटर-बिटर क्या देखे जा रही है? भीतर जा और जल्दी से दो प्याली चाय बना कर ला.गिरजा चिल्लाया तो सुमित्रा ने झट से अपने को संभाला.वह तेजी से रसोई की ओर मुडी थी.

रसोई में आते ही सुमित्रा के भीतर का बांध आंखों के रास्ते फूट पडा.एक बार तो वह फफक पडी थी.लेकिन अगले ही पल उसने दुपट्टे को दांतों के बीच ठूंस लिया.कहीं रोने की आवाज ग़िरजा तक पहुंच गई तो उसकी खैर नहीं.

पहली बार जब सुमित्रा के रोने की आवाज गिरजा के कानों तक पहुंची थी तो वह दहाडता हुआ भीतर आया था – ऐ ये गुटर-गूं क्या लगा रखी है? बंद कर ये मगरमच्छ के आंसू.सुमित्रा की ज्यादा परवाह किये बिना गिरजा उस औरत को लेकर अपने कमरे में बंद हो गया था.

ये सब क्या है सुमित्रा समझ नहीं पा रही थी.उसका जिस्म ठंडा पड ग़या था.जुबान तो जैसे किसी ने काट ही डाली हो.

एक ही कमरा है गिरजा के पास और उसमें भी वह पराई औरत को लेकर बंद हो गया.ऐसा तो सुमित्रा ने न कभी देखा न सुना था.अपना यह दुख वह कहे भी किससे.लोगों के लिए तो तमाशा बन कर रह जाएगा.अम्मा से? न-न! रो-रो कर जान गंवा देगी.

पूरे तीन घंटे वह औरत भीतर रही थी.और उन तीन घंटे में सुमित्रा रसोई की दीवार से छिपकली की तरह चिपकी रही थी.उस औरत के जाते ही गिरजा रसोई में घुसा था – कुछ दाल-रोटी बनायी कि नहीं?

सुमित्रा उसी मुद्रा में बैठी रही तो गिरजा उसकी ठोढी क़ो ऊपर उठाते हुए बोला था- ऐऽ! थोबडा क्यों सूज गया तेरा? जलभुन गयी क्या उस औरत को देख कर?अरी अपन ने तेरे को तो इस घर से नहीं निकाला.राम कसम जो कभी तेरे को अपना न समझा हो.यह तो टेम्परेरी थी.मिल गयी सो लो आया.तू काहे जी को जलाती है.चल उठ और रोटी बना.

आंखों को दुपट्टे से पोंछती हुई सुमित्रा उठी थी.गिरजा की साफ सी बातों से वह नर्म भी पड अायी.अपने को गिरजा की छाती से सटाती बोली थी- मुझे तो नहीं छोड देगा तू?

-कैसी बात करती है तू! मेरे पर विश्वास नहीं तेरे को? गिरजा देर तक सुमित्रा के बालों को सहलाता रहा.सुमित्रा के भीतर का आकोश धीरे-धीरे धुलता चला गया था.प्यार भरी नजरों से वह गिराजा की ओर देखती बोली थी- गिरजा तू अगर मुझे सच में चाहता है तो कह कि आगे से उस औरत को नहीं लाएगा.

-अच्छा बाबा नहीं लाऊंगा.

-सच में उस औरत को नहीं लाएगा न ?

-सिर्फ उस औरत को ही नहीं किसी को भी नहीं लाऊंगा.

-और तू भी किसी के पास नहीं जाएगा?

-नहीं जाऊंगा बाबा! और कुछ?

सातवें दिन जब गिरजा उसी औरत को लेकर घर में घुसा तो सुमित्रा के पांव तले से जमीन ही खिसक गयी.गिरजा ने भीतर आते ही आदेश दिया था- ऐऽ! बाहर चल कर बैठ.देखना कोई भीतर न आए.कोई मेरा पूछे तो बोलना घर पर नहीं है.

दुपट्टे में आधा मुंह छिपाए वह औरत गिरजा के पीछे-पीछे भीतर चली आई थी.

छोटी-छोटी बिन्दियों वाला नीले रंग का सूट और उस पर नीले ही रंग का दुपट्टा .पहले तो सुमित्रा को लगा जैसे यह कोई दूसरी औरत है.लेकिन जब उसने अपने आधे चेहरे से दुपट्टा हटाया तो सुमित्रा की नजर सीधे उसके मोटे तिल पर जा पडी थी.सुमित्रा समझ गयी थी कि अब यह औरत उसका घर बरबाद करके ही छोडेग़ी.

सुमित्रा का सोचना ठीक ही निकला था.अब तो सप्ताह में एक बार नहीं दो-दो बार आने लगी थी वह.पिछली बार तो सुमित्रा ने अपनी आंखों से गिरजा को उसे नोट पकडाते देखा था.तब तो सुमित्रा खुद को रोक ही नहीं पाई थी.उस औरत के जाते ही फट पडी थी-ये सब क्या हो रहा है गिरजा?

– कुछ भी तो नहीं! बडे सहज भाव से गिरजा बोला था.

-तूने मेरे साथ वादा किया था कि.

-तेरा कुछ ले गई क्या? गिरजा उसकी बात काटते हुए बोला था.

-अभी तक तो नहीं ले गई.लेकिन एक दिन तो ले जाएगी.

-तो उस दिन का इंतजार कर.

-नहीं गिरजा मैं.

-ऐऽ शेरनी की बच्ची! दहाडने की जरूरत नहीं है.

गिरजा ने तपाक से एक झापड सुमित्रा के गाल पर रसीद कर दिया था- अगर ज्यादा बक-बक की न यहां से चलती करूंगा तेरे को.समझी? चुप रही तो सारी जिन्दगी टिकाये रखूंगा.

सुमित्रा जार-जार रो दी थी.उजड ग़ई वह तो.मन तो हुआ था उसका कि छाती पीट ले.लेकिन बात अम्मा तक पहुंच गई तो यों ही प्राण दे देगी.बहुत दुख देखे हैं उसने जिन्दगी में.अब और नहीं सह पाएगी.खून के घूंट पी कर रह गई थी सुमित्रा.

आज इन दोनो को देख कर सुमित्रा को आश्चर्य तो नहीं हुआ था लेकिन भीतर से जी तो उतना ही जलता है.अपने गुस्से को तो उसने पूरी तरह से काबू कर लिया था.
सुमित्रा तीन प्याली चाय बना लायी.

-ये तीसरी प्याली किसके लिये? गिरजा आश्चर्य से भर कर बोला.
-मैं पिऊंगी! सुमित्रा सामने वाली छोटी तिपाई पर बैठती हुई बोली.गिरजा की आंखों में आश्चर्य और सन्देह के मिश्रित भाव तैर आए थे.

सुमित्रा ने बडे आराम से उन दोनो के सामने चाय पी.चाय खतम होते ही सुमित्रा ने नजर भर कर उस औरत की ओर देखा और तेजी से बाहर को आ गई.बाहर आते हुए उसने भीतरवाला दरवाजा बिना सांकल लगाए बंद कर दिया.

पहले तो ऐसी स्थिति में सुमित्रा एक ही जगह बैठी घंटों गुजार देती थी.लेकिन आज तो वह अपने काम में व्यस्त हो गई.रसोई में जाकर साबत मूंग की दाल चढा दी जो गिरजा को बहुत पसन्द है.सुबह करेलों को छील कर उन पर नमक लगा कर रखा था उन्हें सरसों के तेल में छोंक दिया.गिरजा बाहर आए तो वह गरम-गरम फुलका उतार देगी.

सारा काम खतम होने के बाद भी सुमित्रा को डयोढी में बैठ इन्तजार करना पडा.कोई आध घंटे बाद दरवाजे क़ी सिटकनी खुली.दुपट्टा संभालती हुई वह औरत बाहर को निकली थी.

सुमित्रा ने नजर भर कर उस औरत की ओर देखा तो वह औरत एकाएक चीख पडी- एऽ! यूं घूर-घूर कर क्या देख रही है मुझे?

सुमित्रा चुप बनी रही तो वह पुनः चिल्लाई- तू कैसी औरत है री! तेरा मरद घर पर औरत लाता है और तू चुप बनी बैठी है.तेरी जगह मैं होती न नोच देती इसे.

सुमित्रा अब भी चुप बनी रही तो वह उसी रौ में बोली- मैं तो आऊंगी.पेट नहीं भरना मुझे क्या.तुझे रोकना है तो अपने मरद को रोक.कल को मैं नहीं आऊंगी तो कोई दूसरी ले आएगा.

वह औरत हांफने लगी थी.सुमित्रा को अब भी चुप देख उसने पिच्च से नाली में थूका और तेजी से बाहर को निकल गई.

Advertisements
This entry was posted in Indian Writers and tagged , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

10 Responses to Aurat… By Vikesh Nijhawan

  1. ” Then the woman brought with Church today. Exactly skinny fat – fat eyes sharp nose and dark skinned woman.”
    beautifully written shiraz 🙂

  2. Rachna says:

    A disturbingly piercing capture of the gender dynamics in our society. The end which depicts the subtle dynamics b/w both the victims of the patriarchal set-up is very nuanced. This highly commendable blog, along with sharing literature b/w the readers of Hindi and Urdu, also disseminates definite social messages through its choice of stories. Thanks for that, and looking forward to more. 🙂

  3. ilmanafasih says:

    Yet another piece of proof of how similar both sides of the border are. I comment you Shiraz, for the choice of this story. I clearly wouldn’t have.

  4. Real mirror image creation by the writer……… A strong impact on mind………. Congratulations to Mr. Vikesh Nijhawan for his out standing contributions to the society……..!

  5. Vibha says:

    Wow! what a piece of writing, and what a disturbingly sad picture of Indian society. Nijhaawan Saab’s command on language is great and his pen works like a camera that captures into the pathos of Indian society and culture……..he paints every picture painted through its life-blood, smooth writing that flows and pierces.
    Congratulations to the writer and to the blog publisher for the “word” flew through their creative geniuses.

  6. Sudershen Priyadershini says:

    Beautifully written and a steek satire on the society. A worth while blunt Ishaara to perpetual scar on the forehead of humanity all over.
    Congratulations Vikesh ji
    Sudershen Priyadershini

  7. Gian Sunder Singh says:

    Vikesh – wonderful story. See you in Ambala sometime.

  8. Girish Dugala says:

    Great Work Sir as Usual… Good Luck for the next one!!!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s